Contents فہرست
ردیف الف
Ghazals — Radeef Alif
- وہ سر بام کب نہیں آتا۱
- آنکھ سے دل میں آنے والا۲
- دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا۳
- دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا۴
- وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا۵
- اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا۶
- وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا۷
- نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا۸
- دل مکدر ہے آئینہ رو کا۹
- تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا۱۰
- نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا۱۱
- مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا۱۲
- جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرنا۱۳
- جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھا۱۴
- ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کا۱۵
- پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا۱۶
- کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا۱۷
- گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا۱۸
- کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا۱۹
ردیف ر
Ghazals — Radeef Re
ردیف ن
Ghazals — Radeef Noon
- مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں۲۱
- جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں۲۲
- نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں۲۳
- آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں۲۴
- آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں۲۵
- قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں۲۶
- دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں۲۷
- خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں۲۸
- تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میں۲۹
- ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں۳۰
- گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں۳۱
- پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں۳۲
- یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں۳۳
ردیف و
Ghazals — Radeef Wao
ردیف ہ
Ghazals — Radeef He
ردیف ی
Ghazals — Radeef Choti Ye
ردیف ے
Ghazals — Radeef Bari Ye
- نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے۴۵
- معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے۴۶
- دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے۴۷
- اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے۴۸
- اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے۴۹
- جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہے۵۰
- جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے۵۱
- دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے۵۲
- بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے۵۳
- عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے۵۴
- میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے۵۵
- وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے۵۶
- تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سے۵۷
- یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے۵۸
- کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے۵۹
- کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے۶۰
- پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے۶۱
- کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے۶۲
- کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے۶۳
- ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیے۶۴
رباعیات
Rubaiyat
مثنویات، مراثی و دیگر
Masnavis, marsiyas and other forms