دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا

چھوٹے چھوٹے دو ورق جل جل کے دفتر بن گئےدرس حسرت دے رہا تھا جو پر پروانہ تھا

About this couplet

This is couplet 3 of 5 in “⁨دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (⁨کلامِ آرزو⁩).

Read it in the poem

۳ / ۵