کلامِ آرزوردیف الف

دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا

۱

دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھاان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھا

۲

کھینچ لایا تھا یہ کس عالم سے کس عالم میں ہوشاپنا حال اپنے لیے جیسے کوئی افسانہ تھا

۳

چھوٹے چھوٹے دو ورق جل جل کے دفتر بن گئےدرس حسرت دے رہا تھا جو پر پروانہ تھا

۴

جان کر وارفتہ ان کے چھیڑنے کی دیر تھیپھر تو دل اک ہوش میں آیا ہوا دیوانہ تھا

۵

ضوفشاں ہونے لگا جب دل میں حسن خود نماپھر تو کعبہ آرزوؔ کعبہ نہ تھا بت خانہ تھا

۳ / ۷۰