کلامِ آرزوردیف الف

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا

۱

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا

۲

حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نامنمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا

۳

مرے خیال کی دنیا میں اس جہاں سے دوریہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا

۴

خوشی یہ دل کی ہے اس میں نہیں ہے عقل کو دخلبرا وہ کہتے رہے اور کچھ برا نہ لگا

۵

چمک سے برق کی کم تر ہے وقفۂ دیدارنظر ہٹی کہ اسے ہاتھ اک بہانہ لگا

۶

مری تلاش تھی تشویش دیدۂ بے نوروہ ملتے کیا مجھے اپنا ہی جب پتا نہ لگا

۱۱ / ۷۰