کلامِ آرزوردیف الف

مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا

۱

مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیاچور کر دے کیوں نہ وہ شیشہ جسے پتھر دیا

۲

اس سے طالب ہوں دیت کا آپ سے مطلب نہیںجس نے گردن ایک کو دی ایک کو خنجر دیا

۳

تھا مکافات عمل احباب کا حسن عملیہ بھی ایسا قرض تھا جو اور سے لے کر دیا

۴

اب نہ ہے فکر حفاظت اور نہ ضیق رفع کاردینے والے نے دیا اور میری خواہش بھر دیا

۵

گریۂ بے اختیار غم بھی تھا فطری علاججس نے تھوڑے جوش کو ہر مرتبہ کم کر دیا

۶

جس میں کیف غم نہیں باز آئے ایسے دل سے ہمیہ بھی دنیا ہے کوئی مے تو نہ دی ساغر دیا

۷

آرزوؔ اک روز ڈھا دیتا مجھے میرا ہی زوریہ بھی اس کی کارسازی دل میں جس نے ڈر دیا

۱۲ / ۷۰