کلامِ آرزوردیف ے
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانےدل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
کہہ جاتی ہے کیا وہ چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہیںکچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے
چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئیکیا کس نے کہی کیا کس نے سنی یہ بتا زمانہ کیا جانے
تھا دیر و حرم میں کیا رکھا جس سمت گیا ٹکرا کے پھراکس پردے کے پیچھے ہے شعلہ اندھا پروانہ کیا جانے
یہ زورا زوری عشق کی تھی فطرت ہی جس نے بدل ڈالیجلتا ہوا دل ہو کر پانی آنسو بن جانا کیا جانے
سجدوں سے پڑا پتھر میں گڑھا لیکن نہ مٹا ماتھے کا لکھاکرنے کو غریب نے کیا نہ کیا تقدیر بنانا کیا جانے
آنکھوں کی اندھی خود غرضی کاہے کو سمجھنے دے گی کبھیجو نیند اڑا دے راتوں کی وہ خواب میں آنا کیا جانے
پتھر کی لکیر ہے نقش وفا آئینہ نہ جانو تلووں کالہرایا کرے رنگیں شعلہ دل پلٹے کھانا کیا جانے
جس نالے سے دنیا بے کل ہے وہ جلتے دل کی مشعل ہےجو پہلا لوکا خود نہ سہے وہ آگ لگانا کیا جانے
ہم آرزوؔ آئے بیٹھے ہیں اور وہ شرمائے بیٹھے ہیںمشتاق نظر گستاخ نہیں پردہ سرکانا کیا جانے
۴۶ / ۷۰