کلامِ آرزوردیف ے

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے

۱

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والےہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والے

۲

حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرورخود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے

۳

چپ ہے پروانہ تو کیا شمع کو خود ہے اقرارآپ ہی جلتے ہیں اوروں کو جلانے والے

۴

آرزوؔ ذکر زبانوں پہ ہے عبرت کے لئےمٹنے والے ہیں نہ باقی ہیں مٹانے والے

۴۵ / ۷۰