کلامِ آرزوردیف ے
تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سے
تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سےچھپایا ہو گناہ عشق تو پوچھو گواہوں سے
میں کشکول دل بے مدعا لے کر کہاں جاؤںیہ پیغام طلب کیوں اونچی اونچی بارگاہوں سے
زباں ہو ایک الفت کی تو ممکن ہے زباں بندیہوئی جو بات چپکے کی وہ کہہ ڈالی نگاہوں سے
محبت اندر اندر زیست کا نقشہ پلٹتی ہےیہی چلتی ہوئی سانسیں بدل جائیں گی آہوں سے
سند بے اعتمادی کی ہے قبل امتحاں گویابیان حال کے پہلے حلف لینا گواہوں سے
محبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہےبڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے
ہوئے جب آپ سے باہر پھر احساس دوئی کیساپتہ منزل کا ملتا ہے انہیں گم کردہ راہوں سے
بتا سکتی نہیں روئیدگی سبزہ و گل بھیفقیروں سے پٹے تھے یہ گڑھے یا بادشاہوں سے
چھلکتے ظرف کا کھلتا بھرم کھوتا ہے بات اپنیسکوں پاتا ہے دل کا درد نالوں سے نہ آہوں سے
یہ پہلے سوچ لیں آنکھوں میں لہراتے ہوئے آنسوکہ وہ پھر اٹھ بھی سکتے ہیں جو گر جائیں نگاہوں سے
ملا بیٹھا ہے سب میں کچھ مگر منہ سے نہیں کہتاالگ سمجھو تم اپنے آرزوؔ کو دادخواہوں سے
۵۷ / ۷۰