کلامِ آرزوردیف ے

وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے

۱

وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سےکہ خود کہتے نہیں کچھ اور کہلواتے ہیں ہاں مجھ سے

۲

بہت کچھ حسن ظن رکھتا ہے میرا مہرباں مجھ سےکہ تہمت دھر کے ہے خواہان تائید بیاں مجھ سے

۳

کسی گل کی قبا ملتی نہیں تحریق سے خالیجنوں نے لے کے بانٹی ہیں یہ کتنی دھجیاں مجھ سے

۴

پلا ساقی کہ رہ جائے خمار کیف کا پردہبس اب رکتیں نہیں آتی ہوئی انگڑائیاں مجھ سے

۵

جو گل کو گل نہ سمجھو گے تو کانٹوں ہی میں الجھو گےنہ دو اپنے کو دھوکا آپ ہو کر بد گماں مجھ سے

۶

بہت جلدی نہ کر اے چشم تر کچھ دیر کو دم لےبیاں کرنا وہ تو رہ جائے جتنی داستاں مجھ سے

۷

مثال شمع اپنی آگ میں کیا آپ جل جاؤںقصاص خامشی لے گی کہاں تک اے زباں مجھ سے

۸

ہوئیں تا دیر پہچانی ہوئی آواز میں باتیںوہ کچھ کچھ کھل چلے ہیں رکھ کے پردہ درمیاں مجھ سے

۹

تصور کی نظر پردوں کے روکے رک نہیں سکتیبتا او جانے والے چھپ کے جائے گا کہاں مجھ سے

۱۰

اگر اے آرزوؔ ہر سانس دل کی آہ بن جائےنہ ہوگی ختم پھر بھی میری لمبی داستاں مجھ سے

۵۶ / ۷۰