کلامِ آرزوردیف ے

کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے

۱

کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سےمجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سے

۲

دل مطمئن کی وسعت کوئی کم ہے ماسوا سےمجھے کاہے کی کمی ہے جو طلب کروں خدا سے

۳

ہوئی ختم غم کی آندھی وہی دل کی لو ہے اب بھییہی شعلہ تھا وہ شعلہ کہ لڑا کیا ہوا سے

۴

کہے کون اسے پتنگا جو ہے شعلے پر دھواں ساتجھے لے اڑے ہیں کتنا ترے پر ذرا ذرا سے

۵

جو ہے سب کا دینے والا میں اسی کو چاہتا ہوںمری بھیک وہ نہیں ہے کہ ملے کسی گدا سے

۶

یہ ہے قصر زندگانی کہ حباب بحر فانیابھی بن گیا ہوا سے ابھی مٹ گیا ہوا سے

۷

یہ خیال خود ہے ایسا جو خوشی بنا دے غم کوکہ ہے ابتدا خوشی کی مرے غم کی انتہا سے

۸

مرا دل رضا پہ راضی کرم اس کا جوش پر ہےجو اب آ گئی زباں تک تو اثر گیا دعا سے

۹

مری لاکھ منتوں پر تری اک حیا ہے بھاریکوئی پردہ ہے وہ پردہ کہ ہلے ڈلے ہوا سے

۱۰

ترے پاکباز الفت نہیں ہارنے کے ہمتجو مریں گے ڈوب کر بھی تو مریں گے رہ کے پیاسے

۱۱

کسی دل کی آس یوں بھی کبھی آرزوؔ نہ ٹوٹےیہ کہے بنی ہے دم پر وہ کہے مری بلا سے

۵۹ / ۷۰