کلامِ آرزوردیف ے

کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے

۱

کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہےجہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہے

۲

تمہارا وعدہ ہے کیسا وعدہ کہ جس کا دل کو یقیں نہیں ہےنگین بے نقش تو ہزاروں یہ نقش ہے اور نگیں نہیں ہے

۳

تصوروں کے فریب اٹھا کر مشاہدہ وہم بن رہا ہےنظر نے کھائے ہیں اتنے دھوکے کہ دیکھ کر بھی یقیں نہیں ہے

۴

تلون اک جزر و مد ہے خود ہی تھپیڑوں میں آ پھنسی ہے کشتیخبر ہے مدت کے ڈوبے دل کی کہ آج تک تہہ نشیں نہیں ہے

۵

یہ کہتی ہے گردش زمانہ قدم تھمیں گے نہ اب کسی جاہے یہ بھی اک آسماں کا ٹکڑا تری گلی کی زمیں نہیں ہے

۶

وفا کی حامی حمیت ان کی حریف امید غیرت ان کینگاہیں اقرار کر رہی ہیں زباں پہ لیکن نہیں نہیں ہے

۷

ہوا جو اک دل کا داغ روشن تو ہو گئے کل چراغ روشنخیال روشن دماغ روشن بس اب اندھیرا کہیں نہیں ہے

۸

سرشک خونیں کا کل فسانہ لپیٹ رکھا ہے اک ورق میںنچوڑنے پر لہو نہ ٹپکے تو آستیں آستیں نہیں ہے

۹

ہماری ناکامیٔ وفا نے زمانے کی کھول دی ہیں آنکھیںچراغ کب کا بجھا پڑا ہے مگر اندھیرا کہیں نہیں ہے

۱۰

مجھی پہ کیا ہے نہیں ہے کس میں یہ بت تراشی یہ بت پرستیاگر نہ حسن نظر سے دیکھو تو کوئی بھی پھر حسیں نہیں ہے

۱۱

رہ اطاعت میں آرزوؔ نے قدم قدم پہ کئے ہیں سجدےجو آپ کا نقش پا نہیں ہے وہ اس کا نقش جبیں نہیں ہے

۶۰ / ۷۰