کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے
مجھی پہ کیا ہے نہیں ہے کس میں یہ بت تراشی یہ بت پرستیاگر نہ حسن نظر سے دیکھو تو کوئی بھی پھر حسیں نہیں ہے
About this couplet
This is couplet 10 of 11 in “کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (کلامِ آرزو).
Read it in the poem۱۰ / ۱۱