کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے

تلون اک جزر و مد ہے خود ہی تھپیڑوں میں آ پھنسی ہے کشتیخبر ہے مدت کے ڈوبے دل کی کہ آج تک تہہ نشیں نہیں ہے

About this couplet

This is couplet 4 of 11 in “⁨کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (⁨کلامِ آرزو⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۱