کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے

سبھی اپنے اور بیگانے چلے آ رہے ہیں سمجھانےمجھے کیا ہوا خدا جانے میں سڑی ہوں یا یہ دیوانے

About this couplet

This is couplet 3 of 11 in “⁨کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (⁨کلامِ آرزو⁩).

Read it in the poem

۳ / ۱۱