کلامِ آرزوردیف ے

کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے

۱

کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانےجو ہو بے شعور کیا جانے یہ ہیں زندگی کے افسانے

۲

یہ نئی نئی ہر اک صورت یہ طلسمی آئینہ خانےہے غضب کی شعلہ سامانی کہ بھٹک رہے ہیں پروانے

۳

سبھی اپنے اور بیگانے چلے آ رہے ہیں سمجھانےمجھے کیا ہوا خدا جانے میں سڑی ہوں یا یہ دیوانے

۴

کوئی آ رہا ہے سمجھانے مگر اس طرح کہ بے جانےہیں اسی کے غم میں دیوانے ابھی سن لے تو برا مانے

۵

للک ایک سی نہ اے کوئل نہ ترا سا دل ہے میرا دلتری کوک کو میں کیا سمجھوں مری ہوک کو تو کیا جانے

۶

تری بے رخی نے اے ساقی ہوس طلب بڑھا دی ہےہوا چور ایک پیمانہ تو بنے ہزار پیمانے

۷

ہے ادھر خمار آنکھوں میں ادھر انتظار آنکھوں میںابھی دور مے کشی ہے دور ابھی بن رہے ہیں میخانے

۸

ہوا بھولے پن پہ جو بسمل وہ تو اپنا آپ ہے قاتلیہ سمجھ کا پھیر ہے اے دل ستم و جفا وہ کیا جانے

۹

نئی کروٹیں زمانے کی ہیں بڑی ہی انقلاباتیکہیں بستیوں میں ویرانی کہیں بس رہے ہیں ویرانے

۱۰

یہ ابھرتی مٹتی تحریریں یہ بگڑتی بنتی تصویریںکسی حسن کی ہیں تنویریں کوئی دیکھے ہو تو پہچانے

۱۱

تو ہے جان حسن یہ سن کے تو پسینہ چھوٹا ماتھے سےمرا نام آرزوؔ سن لے تو وہ اور بھی برا مانے

۶۲ / ۷۰