جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں

جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیںدروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں

About this couplet

This is couplet 1 of 14 in “⁨جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (⁨کلامِ آرزو⁩).

Read it in the poem

۱ / ۱۴