کلامِ آرزوردیف ن

جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں

۱

جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیںدروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں

۲

آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیںآنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں

۳

جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیںیاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور دل سے باتیں ہوتی ہیں

۴

گھر گھر کے بادل آتے ہیں اور بے برسے کھل جاتے ہیںامیدوں کی جھوٹی دنیا میں سوکھی برساتیں ہوتی ہیں

۵

امید کا سورج ڈوبا ہے آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہےدنیائے فراق میں دن کیسا راتیں ہی راتیں ہوتی ہیں

۶

طے کرنا ہیں جھگڑے جینے کے جس طرح بنے کہتے سنتےبہروں سے بھی پالا پڑتا ہے گونگوں سے بھی باتیں ہوتی ہیں

۷

آنکھوں میں کہاں رس کی بوندیں کچھ ہے تو لہو کی لالی ہےاس بدلی ہوئی رت میں اب تو خونیں برساتیں ہوتی ہیں

۸

قسمت جاگے تو ہم سوئیں قسمت سوئے تو ہم جاگیںدونوں ہی کو نیند آئے جس میں کب ایسی راتیں ہوتی ہیں

۹

جو کان لگا کر سنتے ہیں کیا جانیں رموز محبت کےاب ہونٹ نہیں ہلنے پاتے اور پہروں باتیں ہوتی ہیں

۱۰

جو ناز ہے وہ اپناتا ہے جو غمزہ ہے وہ لبھاتا ہےان رنگ برنگی پردوں میں گھاتوں پر گھاتیں ہوتی ہیں

۱۱

ہنسنے میں جو آنسو آتے ہیں نیرنگ جہاں بتلاتے ہیںہر روز جنازے جاتے ہیں ہر روز براتیں ہوتی ہیں

۱۲

جو کچھ بھی خوشی سے ہوتا ہے یہ دل کا بوجھ نہ بن جائےپیمان وفا بھی رہنے دو سب جھوٹی باتیں ہوتی ہیں

۱۳

جب تک ہے دلوں میں سچائی سب ناز و نیاز وہیں تک ہیںجب خود غرضی آ جاتی ہے جل ہوتے ہیں گھاتیں ہوتی ہیں

۱۴

ہمت کس کی ہے جو پوچھے یہ آرزوئے سودائی سےکیوں صاحب آخر اکیلے میں یہ کس سے باتیں ہوتی ہیں

۲۲ / ۷۰