جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
ہمت کس کی ہے جو پوچھے یہ آرزوئے سودائی سےکیوں صاحب آخر اکیلے میں یہ کس سے باتیں ہوتی ہیں
About this couplet
This is couplet 14 of 14 in “جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (کلامِ آرزو).
Read it in the poem۱۴ / ۱۴