جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
آنکھوں میں کہاں رس کی بوندیں کچھ ہے تو لہو کی لالی ہےاس بدلی ہوئی رت میں اب تو خونیں برساتیں ہوتی ہیں
About this couplet
This is couplet 7 of 14 in “جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (کلامِ آرزو).
Read it in the poem۷ / ۱۴