گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں

آرزوؔ اب بھی کھوٹے کھرے کو کر کے الگ ہی رکھ دیں گیان کی پرکھ کا کیا کہنا ہے جو ٹکسالی آنکھیں ہیں

About this couplet

This is couplet 5 of 5 in “⁨گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (⁨کلامِ آرزو⁩).

Read it in the poem

۵ / ۵