کلامِ آرزوردیف ن

گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں

۱

گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیںدیکھ کے جن کو نیند آ جائے وہ متوالی آنکھیں ہیں

۲

منہ سے پلا کیا سرکانا اس بادل میں بجلی ہےسوجھتی ہے ایسی ہی نہیں جو پھوٹنے والی آنکھیں ہیں

۳

چاہ نے اندھا کر رکھا ہے اور نہیں تو دیکھنے میںآنکھیں آنکھیں سب ہیں برابر کون نرالی آنکھیں ہیں

۴

بے جس کے اندھیر ہے سب کچھ ایسی بات ہے اس میں کیاجی کا ہے یہ باؤلا پن یا بھولی بھالی آنکھیں ہیں

۵

آرزوؔ اب بھی کھوٹے کھرے کو کر کے الگ ہی رکھ دیں گیان کی پرکھ کا کیا کہنا ہے جو ٹکسالی آنکھیں ہیں

۳۱ / ۷۰