بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیںمہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو

About this couplet

This is couplet 2 of 5 in “⁨بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو⁩” in the section Ghazals — Radeef Wao, from Syed Anwar Hussain Arzoo Lakhnavi's Urdu book Kalam-e-Arzoo (⁨کلامِ آرزو⁩).

Read it in the poem

۲ / ۵