کلامِ آرزوردیف و

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

۱

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دوجس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

۲

رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیںمہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو

۳

روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچےچہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو

۴

خندۂ گل بلبل میں ہوگا گل میں نغمہ بلبل کاقصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو

۵

اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کابات کرو خود قابل شکوہ الٹے مجھ کو رہنے دو

۳۴ / ۷۰