کلامِ اصغرردیف الف

مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا

۱

مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھاسنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھا

۲

زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھارخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

۳

آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگےمیں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا

۴

اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوبفتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں دیکھا

۵

ہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورتمیں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا

۶

کچھ دعوئ تمکیں میں ہے معذور بھی زاہدمستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا

۷

روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میںجیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا

۸

مجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہیں ترستیکب سے تجھے اے سرو خراماں نہیں دیکھا

۹

کیا کیا ہوا ہنگام جنون یہ نہیں معلومکچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا

۱۰

شائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغرؔکافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا

۱ / ۳۹