کلامِ اصغرردیف الف
ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیا
۱
ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیاکفر کو اس طرح چمکایا کہ ایماں کر دیا
۲
تو نے یہ اعجاز کیا اے سوز پنہاں کر دیااس طرح پھونکا کہ آخر جسم کو جاں کر دیا
۳
جس پہ میری جستجو نے ڈال رکھے تھے حجاببے خودی نے اب اسے محسوس و عریاں کر دیا
۴
کچھ نہ ہم سے ہو سکا اس اضطراب شوق میںان کے دامن کو مگر اپنا گریباں کر دیا
۵
گو نہیں رہتا کبھی پردے میں راز عاشقیتم نے چھپ کر اور بھی اس کو نمایاں کر دیا
۶
رکھ دیے دیر و حرم سر مارنے کے واسطےبندگی کو بے نیاز کفر و ایماں کر دیا
۷
عارض نازک پہ ان کے رنگ سا کچھ آ گیاان گلوں کو چھیڑ کر ہم نے گلستاں کر دیا
۸
ان بتوں کی صورت زیبا کو اصغرؔ کیا کہوںپر خدا نے وائے ناکامی مسلماں کر دیا
۲ / ۳۹