کلامِ اصغرردیف ے
آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے
۱
آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہےمٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہے
۲
طوف حرم میں یا سر کوئے بتاں رہےاک برق اضطراب رہے ہم جہاں رہے
۳
ان کی تجلیوں کا بھی کوئی نشاں رہےہر ذرہ میری خاک کا آتش بجاں رہے
۴
کیا کیا ہیں درد عشق کی فتنہ طرازیاںہم التفات خاص سے بھی بدگماں رہے
۵
میرے سرشک خوں میں ہے رنگینئ حیاتیا رب فضائے حسن ابد تک جواں رہے
۶
میں رازدار حسن ہوں تم رازدار عشقلیکن یہ امتیاز بھی کیوں درمیاں رہے
۳۹ / ۳۹