کلامِ اصغرردیف ے
اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے
اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئےقطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئے
آشوب دہر و فتنۂ محشر لیے ہوئےپہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے
موج نسیم صبح کے قربان جائیےآئی ہے بوئے زلف معنبر لیے ہوئے
کیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سےہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے
قاتل نگاہ یاس کی زد سے نہ بچ سکاخنجر تھے ہم بھی اک تہ خنجر لیے ہوئے
خیرہ کیے ہے چشم حقیقت شناس بھیہر ذرہ ایک مہر منور لیے ہوئے
پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھیہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے
تصویر ہے کھنچی ہوئی ناز و نیاز کیمیں سر جھکائے اور وہ خنجر لیے ہوئے
صہبائے تند و تیز کو ساقی سنبھالنااچھلے کہیں نہ شیشہ و ساغر لیے ہوئے
میں کیا کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیںرگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے
نام ان کا آ گیا کہیں ہنگام باز پرسہم تھے کہ اڑ گئے صف محشر لیے ہوئے
اصغرؔ حریم عشق میں ہستی ہی جرم ہےرکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیے ہوئے
۳۸ / ۳۹