کلامِ اصغرردیف ے

اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے

۱

اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئےقطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئے

۲

آشوب دہر و فتنۂ محشر لیے ہوئےپہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے

۳

موج نسیم صبح کے قربان جائیےآئی ہے بوئے زلف معنبر لیے ہوئے

۴

کیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سےہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے

۵

قاتل نگاہ یاس کی زد سے نہ بچ سکاخنجر تھے ہم بھی اک تہ خنجر لیے ہوئے

۶

خیرہ کیے ہے چشم حقیقت شناس بھیہر ذرہ ایک مہر منور لیے ہوئے

۷

پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھیہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے

۸

تصویر ہے کھنچی ہوئی ناز و نیاز کیمیں سر جھکائے اور وہ خنجر لیے ہوئے

۹

صہبائے تند و تیز کو ساقی سنبھالنااچھلے کہیں نہ شیشہ و ساغر لیے ہوئے

۱۰

میں کیا کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیںرگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے

۱۱

نام ان کا آ گیا کہیں ہنگام باز پرسہم تھے کہ اڑ گئے صف محشر لیے ہوئے

۱۲

اصغرؔ حریم عشق میں ہستی ہی جرم ہےرکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیے ہوئے

۳۸ / ۳۹