متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں

کبھی سنتے تھے ہم یہ زندگی ہے وہم و بے معنیمگر اب موت کو بھی خطرۂ باطل سمجھتے ہیں

About this couplet

This is couplet 3 of 9 in “⁨متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Asghar Husain Asghar Gondvi's Urdu book Kalam-e-Asghar (⁨کلامِ اصغر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۹