کلامِ اصغرردیف ن

متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں

۱

متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیںجسے سب درد کہتے ہیں اسے ہم دل سمجھتے ہیں

۲

اسی سے دل اسی سے زندگی دل سمجھتے ہیںمگر حاصل سے بڑھ کر سعی بے حاصل سمجھتے ہیں

۳

کبھی سنتے تھے ہم یہ زندگی ہے وہم و بے معنیمگر اب موت کو بھی خطرۂ باطل سمجھتے ہیں

۴

بہت سمجھے ہوئے ہے شیخ راہ و رسم منزل کویہاں منزل کو بھی ہم جادۂ منزل سمجھتے ہیں

۵

ابھرنا ہو جہاں جی چاہتا ہے ڈوب مرنے کوجہاں اٹھتی ہوں موجیں ہم وہاں ساحل سمجھتے ہیں

۶

کوئی سرگشتۂ راہ طریقت اس کو کیا جانےیہاں افتادگی کو حاصل منزل سمجھتے ہیں

۷

تماشا ہے نیاز و ناز کی باہم کشاکش کامیں ان کا دل سمجھتا ہوں وہ میرا دل سمجھتے ہیں

۸

عبث ہے دعوئ عشق و محبت خام کاروں کویہ غم دیتے ہیں جس کو جوہر قابل سمجھتے ہیں

۹

غم لا انتہا سعی مسلسل شوق بے پایاںمقام اپنا سمجھتے ہیں نہ ہم منزل سمجھتے ہیں

۱۳ / ۳۹