متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں
ابھرنا ہو جہاں جی چاہتا ہے ڈوب مرنے کوجہاں اٹھتی ہوں موجیں ہم وہاں ساحل سمجھتے ہیں
About this couplet
This is couplet 5 of 9 in “متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Asghar Husain Asghar Gondvi's Urdu book Kalam-e-Asghar (کلامِ اصغر).
Read it in the poem۵ / ۹