کلامِ آتشردیف الف

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

۱

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا

۲

کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یارکب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا

۳

خار صحرا پر کسی نے تہمت دزدی نہ کیپاؤں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا

۴

دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پردل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا

۵

جب اٹھایا پاؤں آتشؔ مثل آواز جرسکوسوں پیچھے چھوڑ کر میں قافلہ جاتا رہا

۵ / ۱۰۵