کلامِ آتشردیف الف
تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا
۱
تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتاذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتا
۲
رخ بے داغ دکھلایا تو ہوتاگل لالہ کو شرمایا تو ہوتا
۳
چلے گا کبک کیا رفتار تیرییہ انداز قدم پایا تو ہوتا
۴
کہے جاتے وہ سنتے یا نہ سنتےزباں تک حال دل آیا تو ہوتا
۵
سمجھتا یا نہ اے آتشؔ سمجھتادل مضطر کو سمجھایا تو ہوتا
۶ / ۱۰۵