کلامِ آتشردیف الف

تیری جو یاد اے دل خواہ بھولا

۱

تیری جو یاد اے دل خواہ بھولاباللہ بھولا واللہ بھولا

۲

فرقت کی شب میں جاں سوز دل نےاف اف کیا جو آہ آہ بھولا

۳

کج رکھ نہ پا کو جا دل سے غافلپھیر اس نے کھایا جو راہ بھولا

۴

زنار ڈالا تسبیح پھیکیعشق صنم میں اللہ بھولا

۵

خور نے گرایا اس کو نظر سےجو ذرہ تیری درگاہ بھولا

۶

زلف رسا کو سمجھا جو افعیچوکا وہ قصر کوتاہ بھولا

۷

دیکھے سے تیرا روئے منورہم مہر بھولا ہم ماہ بھولا

۸

محروم رکھا ساقی نے ہم کواپنے گدا کو جم جاہ بھولا

۹

بت خانہ چھوڑا باز آئے بت سےوہ شہر بھولا وہ شاہ بھولا

۱۰

شرط وفا کی کس بے وفا سےآتشؔ سا عارف آگاہ بھولا

۷ / ۱۰۵