کلامِ آتشردیف الف
سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کا
سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کارہروؤں کی موت ہے خس پوش ہونا چاہ کا
مل بٹھانا ہے فلک منظور کس دل خواہ کابرج میزان میں نہیں بے وجہ آنا ماہ کا
بس کہ پھرتا ہے خیال آنکھوں میں اس دل خواہ کارنگ رو کے اڑنے میں عالم ہے گرد راہ کا
صفحۂ دل سے اٹھاؤں کس طرح نقش صنمملک میں ہوتا کسی کے گھر نہیں اللہ کا
کم بضاعت سے خیال خام ہے کثرت کو فیضاکتفا کرتا نہیں لشکر کو پانی چاہ کا
راہ ہستی میں ہے رخسار صنم سے زندگیتازہ دم کرتا مسافر کو ہے تکیہ راہ کا
لاش بھی گلیوں میں کھنچوا کر کیا ہے قتل یارطول ہی دینا مزا ہے قصۂ کوتاہ کا
پست فطرت سے سوائے رنج کچھ حاصل نہیںپا بہ گل کشتی کو کر دیتا ہے پانی تھاہ کا
چھوڑ کر عشق صنم زاہد نہ ہو مفتون حورکب یقیں لاتا ہے دانا دور کی افواہ کا
دل کو ابروئے صنم کا شیفتہ کرتی ہے آنکھدرس دیتا ہے معلم پہلے بسم اللہ کا
اے صنم بندہ نوازی ہے صفت اللہ کیحیف ہے خالی پھرے سائل تری درگاہ کا
مائل معشوقۂ خسرو نہ ہو اے کوہ کنشیر کے جھوٹے کو کھانا کام ہے روباہ کا
جوش اشک آتشیں کا باعث آہ سرد ہےگرم کرتی ہے ہوا جاڑے کی پانی چاہ کا
نزع میں آیا نہ بالیں پر مرے یار اس لیےآخر ہر ماہ ہے معمول چھپنا ماہ کا
ہوں وہ ابتر طفل جس کو جان کھونا کھیل ہےکنج مرقد ہے گھروندا میری بازی گاہ کا
آسماں روئے زمیں ہے یار ماہ چار دہحلقۂ احباب گرد اس کے ہے ہالہ ماہ کا
وہ دہن ہے چشمۂ شیریں تبسم موج ہےوہ ذقن ہے چاہ خال اس میں توا ہے چاہ کا
ناتواں میری طرح سے ہے جو عشق حسن سےکوہ سے بھاری ترازو میں ہو پلہ کاہ کا
شعر کہتا ہوں میں اے آتشؔ خدا کی حمد میںمیری ہر اک بیت پر عالم ہے بیت اللہ کا
۸ / ۱۰۵