کلامِ آتشردیف الف

رخ و زلف پر جان کھویا کیا

۱

رخ و زلف پر جان کھویا کیااندھیرے اجالے میں رویا کیا

۲

ہمیشہ لکھے وصف دندان یارقلم اپنا موتی پرویا کیا

۳

کہوں کیا ہوئی عمر کیوں کر بسرمیں جاگا کیا بخت سویا کیا

۴

رہی سبز بے فکر کشت سخننہ جوتا کیا میں نہ بویا کیا

۵

برہمن کو باتوں کی حسرت رہیخدا نے بتوں کو نہ گویا کیا

۶

مزا غم کے کھانے کا جس کو پڑاوہ اشکوں سے ہاتھ اپنے دھویا کیا

۷

زنخداں سے آتشؔ محبت رہیکنوئیں میں مجھے دل ڈبویا کیا

۹ / ۱۰۵