کلامِ آتشردیف الف

روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا

۱

روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدالالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیدا

۲

ہوں میں وہ نخل کہ ہر شاخ مری آرا ہےہوں میں وہ شاخ کہ ہوں برگ تبردم پیدا

۳

میں جو روتا ہوں مرے زخم جگر ہنستے ہیںشادی و غم سے کیا ہے مجھے توام پیدا

۴

چاہنے والے ہزاروں نئے موجود ہوئےخط نے اس گل کے کیا اور ہی عالم پیدا

۵

درد سر میں ہو کسی کے تو مرے دل میں ہو دردواسطے میرے ہوا ہے غم عالم پیدا

۶

زخم خنداں ہیں بعینہ لب خنداں اپنےشادمانی میں ہے یاں حالت ماتم پیدا

۷

آسماں شوق سے تلواروں کا مینہ برسا دےمہ نو نے ترے ابرو کا کیا خم پیدا

۸

کام اپنا نہ ہوا جب کجیٔ ابرو سےگیسوئے یار ہوئے درہم و برہم پیدا

۹

شبہ ہوتا ہے صدف کا مجھے ہر غنچے پرکہیں موتی نہ کریں قطرۂ شبنم پیدا

۱۰

چپ رہو دور کرو منہ نہ مرا کھلواؤغافلو زخم زباں کا نہیں مرہم پیدا

۱۱

قلزم فکر میں ہر چند لگائے غوطےدر مضموں کوئی یاروں سے ہوا کم پیدا

۱۲

دوست ہی دشمن جاں ہو گیا اپنا آتشؔنوش داروں نے کیا یاں اثر سم پیدا

۱۰ / ۱۰۵