کلامِ آتشردیف الف

جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا

۱

جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیااے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیا

۲

کوئی اندھا ہی تجھے ماہ کہے اے خورشیدفرق ہوتا نہیں انسان سے دن رات میں کیا

۳

یار نے وعدۂ فردائے قیامت تو کیاشک ہے اے نالۂ دل تیری کرامات میں کیا

۴

کوئی بت خانے کو جاتا ہے کوئی کعبہ کوپھر رہے گبر و مسلماں ہیں تری گھات میں کیا

۵

ایک مدت سے ہوں سائل ترے دروازے پربوسہ یا گالی ملے گا مجھے خیرات میں کیا

۶

ایسی اونچی بھی تو دیوار نہیں گھر کی ترےرات اندھیری کوئی آوے گی نہ برسات میں کیا

۷

دو گھڑی کی جو ملاقات تھی وہ بھی موقوفایسا پڑتا تھا خلل یار کی اوقات میں کیا

۸

پڑھ کے خط اور بھی مایوس ہوئے وصل سے ہمیار نے بھیجا سفر سے ہمیں سوغات میں کیا

۹

آتش مست جو مل جائے تو پوچھوں اس سےتو نے کیفیت اٹھائی ہے خرابات میں کیا

۱۱ / ۱۰۵