کلامِ آتشردیف الف
انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوا
انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوایوسف سے تیرے حسن کا پلہ گراں ہوا
روئے زمیں پہ ایسا میں بسمل تپاں ہوااڑ کر مرا لہو شفق آسماں ہوا
اس برق وش کا عشق نہانی عیاں ہواابر سیاہ آہوں کا میرے دھواں ہوا
پیری میں مجھ کو عشق حسین جواں ہوابار دگر کبادے میں زور کماں ہوا
اہل زمیں سے صاف کہاں آسماں ہواکس روز برج ماہ میں فرش کتاں ہوا
معدوم داغ عشق کا دل سے نشاں ہواافسوس بے چراغ ہمارا مکاں ہوا
دو ٹکڑے ایک وار میں خود حباب ہےگرداب موج تیغ کو سنگ فساں ہوا
دیکھا جو میں نے اس کو سمندر کی آنکھ سےگل زار آگ ہو گئی سنبل دھواں ہوا
ملتا نہیں دماغ ہی گیسوئے یار کاکچھ ان دنوں میں مشک کا سوداگراں ہوا
خوش چشموں کے فراق میں کھائے یہ پیچ و تابشاخ غزال اپنا ہر اک استخواں ہوا
سختیٔ راہ عشق سے واقف ہوئے نہ پاؤںجوش جنوں مرے لیے تخت رواں ہوا
انبوہ عاشقاں سے ہوا حسن کو غرورکثرت سے مشتری کی یہ سوداگراں ہوا
پیوند خاک ہو گئے اک بت کی راہ میںپتھر ہماری قبر کا سنگ نشاں ہوا
پھینکا گیا نہ پیر فلک نعل کی طرحکوئی نہ طفل اشک ہمارا جواں ہوا
تو دیکھنے گیا لب دریا جو چاندنیاستادہ تجھ کو دیکھ کے آب رواں ہوا
انساں کو چاہئے کہ نہ ہو ناگوار طبعسمجھے سبک اسے جو کسی پر گراں ہوا
اس گل سے عرض حال کی حسرت ہی رہ گئیکانٹے پڑے زباں میں جو میل بیاں ہوا
اللہ کے کرم سے بتوں کو کیا مطیعزیر نگیں قلمرو ہندوستاں ہوا
انصاف میں نے عالم اسباب میں کیابنوائی چاندنی جو میسر کتاں ہوا
گردش نے اس کی سرمہ کئے اپنے استخواںچکی ہمارے پیسنے کو آسماں ہوا
قاتل کی تیغ سے رہ ملک عدم ملیآہن ہمارے واسطے سنگ نشاں ہوا
فکر بلند نے مری ایسا کیا بلندآتشؔ زمین شعر سے پست آسماں ہوا
۱۲ / ۱۰۵