کلامِ آتشردیف الف
حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا
حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کاہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا
گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوشبلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا
گریاں ہے اگر شمع تو سر دھنتا ہے شعلہمعلوم ہوا سوختہ پروانہ ہے اس کا
وہ شوخ نہاں گنج کی مانند ہے اس میںمعمورۂ عالم جو ہے ویرانہ ہے اس کا
جو چشم کہ حیراں ہوئی آئینہ ہے اس کیجو سینہ کہ صد چاک ہوا شانہ ہے اس کا
دل قصر شہنشہ ہے وہ شوخ اس میں شہنشاہعرصہ یہ دو عالم کا جلو خانہ ہے اس کا
وہ یاد ہے اس کی کہ بھلا دے دو جہاں کوحالت کو کرے غیر وہ یارانہ ہے اس کا
یوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سےقیمت جو دو عالم کی ہے بیعانہ ہے اس کا
آوارگی نکہت گل ہے یہ اشارہجامے سے وہ باہر ہے جو دیوانہ ہے اس کا
یہ حال ہوا اس کے فقیروں سے ہویداآلودۂ دنیا جو ہے بیگانہ ہے اس کا
شکرانۂ ساقی ازل کرتا ہے آتشؔلبریز مئے شوق سے پیمانہ ہے اس کا
۱۳ / ۱۰۵