کلامِ آتشردیف الف

حسن کس روز ہم سے صاف ہوا

۱

حسن کس روز ہم سے صاف ہواگنہ عشق کب معاف ہوا

۲

لے لیا شکر کر کے ساقی سےدرد اس میں ہوا کہ صاف ہوا

۳

تیغ قاتل پر اپنا خون جم کرمخمل سرخ کا غلاف ہوا

۴

زہر پرہیز ہو گیا مجھ کودرد درماں سے المضاف ہوا

۵

خاکساری کی ہو چکی معراجسینہ اپنا زمین صاف ہوا

۶

کمر یار نے دکھائی آنکھمردم دیدہ خال ناف ہوا

۷

وعدہ جھوٹا نکردہ مرد نہیںقول سے فعل جب خلاف ہوا

۸

فاتحہ کو جو وہ پری آئیسنگ قبر اپنا کوہ قاف ہوا

۹

اس کمر کے ثبوت میں عاجزفکر کر کر کے موشگاف ہوا

۱۰

رند مشرب ہوں مجھ کو کیا ہووےمذہبوں میں جو اختلاف ہوا

۱۱

وہ دہن ہوں نہ نکلا حرف غروروہ زباں ہوں نہ جس سے لاف ہوا

۱۲

گرد اس کوچہ کے پھرا آتشؔحاجی سے کعبہ کا طواف ہوا

۱۴ / ۱۰۵