کلامِ آتشردیف الف
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
۱
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھابغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا
۲
مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھیسحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا
۳
وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کیزمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا
۴
نکالے تھے دو چاند اس نے مقابلوہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا
۵
عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصلفرح ناک تھی روح دل شادماں تھا
۶
مشاہد جمال پری کی تھی آنکھیںمکان وصال اک طلسمی مکاں تھا
۷
حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھیکھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا
۸
کیا تھا اسے بوسہ بازی نے پیداکمر کی طرح سے جو غائب دہاں تھا
۹
حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازینہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا
۱۰
بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہےیہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا
۲۸ / ۱۰۵