کلامِ آتشردیف الف

قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا

۱

قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھانہ سرو باغ کو اتنا کشیدہ ہونا تھا

۲

ہوا ہے زلف سے گستاخ کس قدر شانہہمارے پاس بھی دست بریدہ ہونا تھا

۳

نہ کھینچنا تھا زلیخا کو دامن یوسفاسی کا پردۂ عصمت دریدہ ہونا تھا

۴

دیا نہ ساتھ جو صبر و قرار نے نہ دیاروانہ ملک عدم کو جریدہ ہونا تھا

۵

مٹائے سے کوئی مٹتا ہے باطلوں کے حقکچھ اختیار سے کیا برگزیدہ ہونا تھا

۶

نہ جانتا تھا غضب ہے نگہ کا تیر اے دلتجھی کو سامنے آفت رسیدہ ہونا تھا

۷

رلاتا شام و سحر کس طرح نہ طالع پستبلند سر سے مرے آب دیدہ ہونا تھا

۸

گریز یار نے برباد کر دیا ہم کوغبار راہ غزال رمیدہ ہونا تھا

۹

نہ آئی دامن دایہ میں نیند اے آتشؔدرون دامن خاک آرمیدہ ہونا تھا

۲۹ / ۱۰۵