کلامِ آتشردیف الف

منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھا

۱

منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھاشیفتہ تیرا ہی تھا جو ثابت و سیارہ تھا

۲

ہے جو حسرت تو سراپا چشم ہونے کی ہمیںحاصل اس آئینہ خانہ میں فقط نظارہ تھا

۳

جب شب مہ میں چکور اڑتا ہے مر جاتے ہیں ہمپتلیوں کا اپنی بھی تارہ کوئی رخسارہ تھا

۴

کھول کر دل جب میں روتا تھا فراق یار میںچشم تر منبع تھی ہر موئے مژہ فوارہ تھا

۵

سیل گریہ نے یہ کس کے دی سمندر کو شکستجو حباب آیا نظر اک واژگوں نقارا تھا

۶

ایک شب تو وصل جاناں کی تواضع اے فلکچار دن مہمان تیرے گھر میں میں بے چارہ تھا

۷

روز و شب کے حال کا لکھتا تھا پرچہ روز و شبکاتب اعمال میری ڈیوڑھی کا ہرکارہ تھا

۸

پیٹنا سر اپنے ماتم میں عزیزو یار کاقلعۂ کنج لحد کی فتح کا نقارا تھا

۹

عہد طفلی سے جنون عشق کامل ہے شفیقشاخ نخل بید مجنوں سے مرا گہوارہ تھا

۱۰

جان شیریں مزد جوئے شیر میں تیشہ کو دیحوصلہ سے اپنے باہر کوہ کن بے چارا تھا

۱۱

حالت دل کو بیاں کرتا کسی سے میں تو کیاعشق میں اک مصحف رخسار کے سیپارہ تھا

۱۲

یہ ہوا ظاہر انا لیلیٔ مجنوں سے ہمیںاپنا دیوانہ تھا اپنے واسطے آوارہ تھا

۱۳

حال اپنا اے صنم اپنی جدائی میں نہ پوچھسینہ و سر تھا ہمارا اور سنگ خارا تھا

۱۴

کوچۂ قاتل میں جب شوق شہادت لے گیاسر نہ تھا گردن پر اپنے بار صد پشتارہ تھا

۱۵

لوٹتا تھا اس میں بد خوئی سے میں مانند اشکشوخیٔ طفلان سے جنباں مرا گہوارہ تھا

۱۶

شان عشق اولیٰ ہے مجنوں دودمان عشق سےنا خلف نا قابل و نا لائق و ناکارا تھا

۱۷

اہل عالم سے ہمیشہ آتشؔ ایذائیں ہوئیںمردم دنیا نمک تھے میں دل صد پارہ تھا

۳۰ / ۱۰۵