کلامِ آتشردیف الف

محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا

۱

محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایابرابر گردن شاہ و گدا دونوں کو خم پایا

۲

برنگ شمع جس نے دل جلایا تیری دوری میںتو اس نے منزل مقصود کو زیر قدم پایا

۳

بجا کرتے ہیں عاشق طاق ابرو کی پرستارییہی محراب دیر و کعبہ میں بھی ہم نے خم پایا

۴

نشانہ تیر تہمت کا ہے میرا اختر طالعاٹھاؤں داغ میں تو آسماں سمجھے درم پایا

۵

ہزاروں حسرتیں جاویں گی میرے ساتھ دنیا سےشرار و برق سے بھی عرصۂ ہستی کو کم پایا

۶

سوائے رنج کچھ حاصل نہیں ہے اس خرابے میںغنیمت جان جو آرام تو نے کوئی دم پایا

۷

نظر آیا تماشائے جہاں جب بند کیں آنکھیںصفائے قلب سے پہلو میں ہم نے جام جم پایا

۸

جلایا اور مارا حسن کی نیرنگ سازی نےکبھی برق غضب اس کو کبھی ابر کرم پایا

۹

فراق انجام کام آغاز وصلت کا بلا شک ہےبہت رویا میں روح و تن کو جب مشتاق ہم پایا

۱۰

ہر اک جوہر میں اس کا نقش پائے رفتگاں سمجھادم شمشیر قاتل جادۂ راہ عدم پایا

۱۱

ہمارا کعبۂ مقصود تیرا طاق ابرو ہےتری چشم سیہ کو ہم نے آہوئے حرم پایا

۱۲

ہوا ہرگز نہ خط شوق کا ساماں درست آتشؔسیاہی ہو گئی نایاب اگر ہم نے قلم پایا

۳۱ / ۱۰۵