کلامِ آتشردیف الف
لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا
لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتاقبائے گل سے اسے استعارہ کیا کرتا
بہار گل میں ہیں دریا کے جوش کی لہریںبھلا میں کشتئ مے سے کنارہ کیا کرتا
نقاب الٹ کے جو منہ عاشقوں کو دکھلاتےتمہیں کہو کہ تمہارا نظارہ کیا کرتا
سنا جو حال دل زار یار نے تو کہاطبیب مرتے ہوئے کاہے چارہ کیا کرتا
ہلال عید کا ہر چند ہو جہاں مشتاقتمہاری ابروؤں کا سا اشارہ کیا کرتا
حقیقت دہن یار کھولتا کیوں کرنہفتہ راز کو میں آشکارہ کیا کرتا
قدم کو پیچھے رہ خوفناک عشق میں رکھیہ پہلے دیکھ لے دل ہے اشارہ کیا کرتا
خم شراب سے مجھ مست نے نہ منہ پھیراکنار آب سے پیاسا کنارہ کیا کرتا
بہار تھی جو وہ گل چہرہ یار بھی ہوتااکیلے جا کے چمن کا نظارہ کیا کرتا
گداز موم سے ہر استخواں کو پاتا ہوںپھر اور سوزش دل کا حرارہ کیا کرتا
بڑا ہی خوار علاقہ ہے گلشن الفتمری طرح کوئی اس میں اجارہ کیا کرتا
شراب خلد کی خاطر دہن ہے رکھتا صافوضو میں ورنہ یہ زاہد غرارہ کیا کرتا
شکستہ دل نہ ہو اس بت کے ناز سے کیوں کرسلوک شیشہ سے ہے سنگ خارا کیا کرتا
بہار گل میں پیالہ لگا لیا منہ سےشراب پینے کو میں استخارہ کیا کرتا
فقیر کو نہیں درکار شان امیروں کیسر برہنہ سر گوشوارہ کیا کرتا
بہار گل میں تھا جامہ سے باہر اے آتشؔنہ کرتا میں جو گریباں کو پارہ کیا کرتا
۳۲ / ۱۰۵