کلامِ آتشردیف الف
کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتا
کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتایار ملتا ہے تو پہلو ہی میں ہے مل جاتا
خدمت یار میں میں جبکہ ہوں سائل جاتاکچھ نہ کچھ بوسہ و دشنام سے ہے مل جاتا
تیرے دانتوں سے جو ہونے کو مقابل جاتاصورت اشک گہر خاک میں مل مل جاتا
پھل ملا ہے یہ تری تیغ سے ہم کو اے ترکپھوٹ کی طرح ہر اک زخم ہے کھل کھل جاتا
رخ کے ہوتے ہوے ڈھونڈا نہ دہن کا مضمونسہل کو چھوڑ کے کیوں جانب مشکل جاتا
پر تو کترے ہیں یقین ہے کہ چھری بھی پھیرےزمزموں سے مرے صیاد ہے ہل ہل جاتا
زخم کاری کی تری تیغ سے اللہ ری خوشیرقص کرتا ہوا دنیا سے ہے بسمل جاتا
راہ بھولے ہوے حاجی ہے بھٹکتا ناحقکعبۃ اللہ جو جاتا تو سوئے دل جاتا
طرفہ رکھتی ہے خرابات مغاں کیفیتہوشیار آ کے ہے اس بزم سے غافل جاتا
راہ میں شان کریمی ہے تری بھر دیتیپھر کے خالی کسی در سے جو ہے سائل جاتا
اے صبا تو ہی اڑا کر رخ لیلیٰ دکھلادست مجنوں نہیں تا پردۂ محمل جاتا
کون سی راحت جاں کی ہیں یہ آنکھیں مشتاقکر کے اندھیر ہے وہ رونق محفل جاتا
آمد یار کی کانوں سے سنی ہے جو خبرچھپ کے پہلو سے ہے آنکھوں کی طرف دل جاتا
۳۳ / ۱۰۵