کلامِ آتشردیف الف

ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا

۱

ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کامشتاق ہوں فرشتۂ صاحب جمال کا

۲

پیراہن اس جواں نے جو پہنا ہے چھال کاملتا نہیں چمن میں مزاج اک نہال کا

۳

آلودہ بے گناہوں کے خوں سے ہے تیغ چرخنا فہموں کو گماں ہے شفق میں ہلال کا

۴

شانہ بنیں گے بعد فنا اپنے استخواںعقدہ کھلے گا گیسوؤں کے بال بال کا

۵

بینی سہیل مشتری و زہرہ گوش ہیںقطب شمال حسن ہے تل تیرے گال کا

۶

کس کس بشر کو لائی ہے دنیا فریب میںکیا کیا جواں مرید ہے اس پیر زال کا

۷

لاتی ہے واں قضا و قدر مرغ روح کوپانی جہاں قفس کا ہے دانہ ہے جال کا

۸

امرد پرست ہے تو گلستاں کی سیر کرہر نونہال رشک ہے یاں خورد سال کا

۹

اک دم میں جا ملوں گا عزیزان رفتہ سےکیا عرصہ ہے زمانۂ ماضی سے حال کا

۱۰

سرخ و سفید رنگ سے ہوتا ہے آشکاروہ جسم نازنیں ہے عبیر و گلال کا

۱۱

اے دل قضا نہ آئے ادھر ٹکٹکی نہ باندھگولی کا سامنا ہے یہ نظارہ خال کا

۱۲

بوسہ دیئے سے حسن میں ہوگی کمی نہ یارہوتا نہیں زکوٰۃ سے نقصان مال کا

۱۳

وہ چشم ہی نہیں دل وحشی کی فکر میںہر ترک کو ہے شوق شکار غزال کا

۱۴

زنجیر و طوق ہر برس آ کر پنہا گئیدیوانہ ہوں میں باد بہاری کی چال کا

۱۵

روز سیاہ ہجر میں میرے جلے چراغپروانوں کو نصیب ہوا دن وصال کا

۱۶

رونے کے بدلے حال پر اپنے ہنسا کئےپردہ ہوا نہ فاش ہمارے ملال کا

۱۷

دکھلایا بے نقاب جسے بندہ ہو گیاوہ روئے سادہ نقش ہے صاحب کمال کا

۱۸

کرتی ہے یاں زبان کمر یار میں کلاممعدوم ہے جواب ہمارے سوال کا

۱۹

آتشؔ لحد سے اٹھوں گا کہتا یہ روز حشرمشتاق ہوں میں یار کے حسن و جمال کا

۳۴ / ۱۰۵