کلامِ آتشردیف الف

غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کا

۱

غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کاآفتاب اک زرد پتا ہے مرے گل زار کا

۲

زلف کے حلقہ میں الجھا سبزہ گوش یار کاہو گیا سنگ زمرد خال چشم مار کا

۳

ناخدا ہے موت جو دم ہے سو ہے باد مرادعزم ہے کشتیٔ تن کو بحر ہستی یار کا

۴

خانۂ زنجیر سے مثل صدا ڈرتا ہوں ابیاد آتا ہے کف پا میں کھٹکنا خار کا

۵

جوش گریہ نے کیا ہے ناتواں اتنا مجھےٹوٹنا ممکن نہیں ہے آنسوؤں کے تار کا

۶

کھا گئی آخر مجھے چشم سیاہ سرمگیںزرق قسمت نے کیا ہے زنگی آدم خوار کا

۷

سعئ لا حاصل مداوائے مریض عشق ہےتھامنا ممکن نہیں گرتی ہوئی دیوار کا

۸

ہاتھ قاتل کا گریباں تک پہنچ سکتا نہیںاور فرط شوق ہے یاں زخم دامن دار کا

۹

پھول جو ہے اپنے گلشن کا سپر کا پھول ہےہر شجر اس باغ میں لاتا ہے پھل تلوار کا

۱۰

خط روئے یار سے ایذا اٹھائی ہے زبسسبزہ سے ہوتا ہے صدمہ میرے دل کو خار کا

۱۱

گرچہ پیش طاق ابروئے صنم گیسو نہیںکعبہ پر نرغہ ہوا ہے لشکر کفار کا

۱۲

اے صنم تیری کرنجی آنکھ سے ثابت ہوارنگ اڑ جاتا ہے روئے مردم بیمار کا

۱۳

یاد میں تیری رقیب رو سیہ جاگا تو کیامرتبہ عالی نہ ہو خفاش شب بیدار کا

۱۴

اس پری رو کے جو کوچہ کا گزرتا ہے خیالبن کے جن سایہ لپٹا ہے مجھے دیوار کا

۱۵

اٹھ کے دیوار لحد سے مردے ٹکراتے سراک قیامت ہے صنم عالم تری رفتار کا

۱۶

خم ندامت سے کیا محراب میں کعبہ کے سرگردن زاہد سے بوجھ اٹھا نہ جب زنار کا

۱۷

زندگی میں بے ادب ہونے نہ دے تو رعب حسنخاک ہے میری پس از مرگ اور دامن یار کا

۱۸

اے صنم عاشق سے روپوشی نہیں لازم تجھےپردہ موسیٰ سے نہیں اللہ کو دیدار کا

۱۹

بوئے گل آتشؔ کہیں ہوتی ہے محسوس نظرافزا ہے روز محشر یار کے دیدار کا

۳۵ / ۱۰۵