کلامِ آتشردیف الف

فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گا

۱

فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گاکعبۂ مقصود تک مجھ کو خدا لے جائے گا

۲

کاٹ کر پر بھی مجھے صیاد بے قابو نہ چھوڑناتواں ہوں باد کا جھوکا اڑا لے جائے گا

۳

روتے روتے جان جاوے گی فراق یار میںاشک کا دریا مرا مردہ بہا لے جائے گا

۴

دل مرا مٹھی میں رکھتے ہو تمہارے ہاتھ سےچھین کر اک دن اسے دزد حنا لے جائے گا

۵

مصر تک پہنچے نہ جو کنعاں سے وہ یوسف ہوں میںدست اخواں سے چھٹا تو بھیڑیا لے جائے گا

۶

ایک گل اس باغ کا بوئے وفا رکھتا نہیںسبزۂ بیگانہ شوق آشنا لے جائے گا

۷

وعدۂ صادق تو عزرائیل سے ہے دیکھیےاس سرے سے مجھ کو کب تک اس سرا لے جائے گا

۸

باغباں گلشن کے دروازے کو کیا رکھتا ہے بندکون غنچہ کی کلہ گل کی قبا لے جائے گا

۹

استخواں اجرت میں دیں گے ہم فقیر اے شاہ حسنعرضی اپنے شوق کی تجھ تک ہما لے جائے گا

۱۰

کشتیٔ تن بحر ہستی میں رہی برسوں تباہپار اسے اک دم میں اس کا ناخدا لے جائے گا

۱۱

حسن دکھلا دے گا اے بت تجھ میں شان اللہ کیتیرے آگے عالم اپنی التجا جائے گا

۱۲

بوسے لے گا دست تیغ قاتل بے باک کےآتشؔ مقتول اپنا خوں بہا لے جائے گا

۳۶ / ۱۰۵