کلامِ آتشردیف الف

فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا

۱

فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑاخدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا

۲

قبائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑابن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا

۳

نہیں بے وجہ ہنسنا اس قدر زخم شہیداں کاتری تلوار کا منہ کچھ نہ کچھ اے تیغ زن بگڑا

۴

تکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر کوجو تھی غیرت تو پھر خسرو سے ہوتا کوہ کن بگڑا

۵

کسی چشم سیہ کا جب ہوا ثابت میں دیوانہتو مجھ سے سست ہاتھی کی طرح جنگلی ہرن بگڑا

۶

اثر اکسیر کا یمن قدم سے تیری پایا ہےجذامی خاک رہ مل کر بناتے ہیں بدن بگڑا

۷

تری تقلید سے کبک دری نے ٹھوکریں کھائیںچلا جب جانور انساں کی چال اس کا چلن بگڑا

۸

زوال حسن کھلواتا ہے میوے کی قسم مجھ سےلگایا داغ خط نے آن کر سیب ذقن بگڑا

۹

رخ سادہ نہیں اس شوخ کا نقش عداوت سےنظر آتے ہی آپس میں ہر اہل انجمن بگڑا

۱۰

جو بد خو طفل اشک اے چشم تر ہیں دیکھنا اک دنگھروندے کی طرح سے گنبد چرخ کہن بگڑا

۱۱

صف مژگاں کی جنبش کا کیا اقبال نے کشتہشہیدوں کے ہوئے سالار جب ہم سے تمن بگڑا

۱۲

کسی کی جب کوئی تقلید کرتا ہے میں روتا ہوںہنسا گل کی طرح غنچہ جہاں اس کا دہن بگڑا

۱۳

کمال دوستی اندیشۂ دشمن نہیں رکھتاکسی بھونرے سے کس دن کوئی مار یاثمن بگڑا

۱۴

رہی نفرت ہمیشہ داغ عریانی کو پھائے سےہوا جب قطع جامہ پر ہمارے پیرہن بگڑا

۱۵

رگڑوائیں یہ مجھ سے ایڑیاں غربت میں وحشت نےہوا مسدود رستہ جادۂ راہ وطن بگڑا

۱۶

کہا بلبل نے جب توڑا گل سوسن کو گلچیں نےالٰہی خیر کیجو نیل رخسار چمن بگڑا

۱۷

ارادہ میرے کھانے کا نہ اے زاغ و زغن کیجووہ کشتہ ہوں جسے سونگھے سے کتوں کا بدن بگڑا

۱۸

امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تکنہ اک مو کم ہوا اپنا نہ اک تار کفن بگڑا

۱۹

جہاں خالی نہیں رہتا کبھی ایذا دہندوں سےہوا ناسور نو پیدا اگر زخم کہن بگڑا

۲۰

تونگر تھا بنی تھی جب تک اس محبوب عالم سےمیں مفلس ہو گیا جس روز سے وہ سیم تن بگڑا

۲۱

لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحبزباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا

۲۲

بناوٹ کیف مے سے کھل گئی اس شوخ کی آتشؔلگا کر منہ سے پیمانے کو وہ پیماں شکن بگڑا

۳۷ / ۱۰۵